دی نیوز اردو

کتنے لفظ سوچے تھے کتنی بار دہرائے: سجاد انور

کتنے لفظ سوچے تھے کتنی بار دہرائے
جب وہ سامنے آیا کچھ بھی کہہ نہیں پائے
ہم نے باندھ کر رکھے آرزو کے دامن میں
وہ وصال کے لمحے جو ابھی نہیں آئے
تم مرے خیالوں کی جان بن کے رہتے ہو
اک ترا تصور ہی دل کو میرے دھڑکائے
مان لو مرا کہنا تم ملا کرو مجھ سے
رت جوانیوں کی پھر لوٹ کر نہیں آئے
تم مری محبت کی صبح کا ستارہ ہو
جو مجھے اندھیروں سے روشنی میں لے آئے
خط میں کیا بتائوں کہ تم سے پیار ہے کتنا
دل کا حال کہنے کو لفظ مل نہیں پائے
ہم تمہاری یادوں کے بے کراں سمندر میں
اس طرح سے ڈوبے ہیں پھر ابھر نہیں پائے
گر کبھی وہ آجائے ہاتھ میرے ہاتھوں میں
یوں لگے کہ جیسے ہم آسماں کو چھو آئے
کس کی چاہتوں کا ہے یہ خمار اے سجاد
جس طرف بھی دیکھا ہے بس وہی نظر آئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: