دی نیوز اردو

استاد اور شاگرد کا خوبصورت رشتہ۔ عمران جاوید

حضرت علی ؓکا فرمان ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا‘ اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا۔

اس طرح علامہ اقبال کے بارے میں یہ بات تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے کہ جب انہیں “سر”کا خطاب دیا جانے لگا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ جب تک ان کے استاد سید میر حسن کوشمس العلماءکا خطاب نہیں دیا جاتا‘ وہ اپنے لیے یہ خطاب قبول نہیں کرسکتے۔
ایک انسان استاد کے بغیر کبھی بھی کامیاب شخصیت کا حامل نہیں ہوسکتا۔ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ہنرمند استاتذہ کا ہاتھ پایا جاتاہے جو اس کی شخصیت کو نکھار کر دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔ استاد کا مقام یہ ہے کہ وہ معاشرے کو ڈاکٹرز، انجینیئر، سائنسدان مہیا کرتے ہیں۔
یہ وہ فیکٹری ہے کہ جہاں سے خام مال سونا بن کر نکلتا ہے اسی لیے اس کی عزت کرنا شاگردوں پر لازم ہے۔
پرانے زمانے میں جب انسان مشینی دور سے آزاد تھا اور بڑے چھوٹے کی تمیز خوب سمجھتا تھا‘ تب استاد کو شاگرد کے والدین جیسی حیثیت اور رتبہ حاصل ہوا کرتا تھا مگر جیسے جیسے وقت نے اپنے پہیئے دوڑائے‘ رشتوں سے احترام ختم ہونے لگا اور یہ دراڑسب سے استاد اور شاگرد کے رشتے پر نمایاں ہ±وئی۔دونوں تدریس کو پیشہ سمجھنے لگے۔ اب حال یہ ہے کہ ٹیچرز کو ایک معمولی سرونٹ کی حیثیت حاصل ہے خاص کر پرائیویٹ سکول ٹیچرز کو حالانکہ پہلی جماعت سے لیکر دسویں جماعت تک کے استاتذہ ہی بچے کی شخصی تربیت کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد بناتے ہیں۔انہی بنیادوں پر چل کر یہ آگے زندگی میں کامیابی کی منازل طے کرتا ہے۔مگر افسوس کہ آج ایک پرائیوٹ سکول ٹیچر کا کوئی پرسان حال نہیں جبکہ استاد اور شاگرد کے درمیان بھی وہ رشتہ نظر نہیں آتا جو بیسویں صدی تک دکھائی دیتا تھا۔مجھے اپنی پہلی جماعت سے لیکر سولہویں جماعت تک کے تمام اساتذہ یاد ہیں جنہوں نے میری منزل کی جانب پیش رفت میں سیڑھی کا کردار ادا کیا۔ اب حال یہ ہے کہ سال میں ایک دن استاد کے نام کر کے کانفرنسز منعقد کی جاتی ہیں اور استاد کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی طرف توجہ مبذول کروائی جاتی ہے مگر ایک دن کاسیمینار اس اخلاقی بد حالی کو بہتر نہیں بنا سکتے۔کچھ عرصہ قبل جرمنی میں ڈاکٹرز‘ انجینئر نے احتجاج کیا کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر کے انہیں ٹیچرز کے برابر کیا جائے جس پر جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے کہا کہ میں کیسے آپ لوگوں کی تنخواہ ان لوگوں کے برابر کردوں جنہوں نے آپ کو اس مقام تک پہنچایا۔یہ بہت بڑی بات ہے جو پاکستان کی حکومت کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں سکول اساتذہ کا کوئی پرسان حال نہیں، انہیںکسی بھی قسم کی سہولیات حاصل نہیںہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمار ے نونہالوں کی بہترین شخصیت بنانے والے معماروں کی قدر کی جائے۔ والدین نونہالوں کو استاد کی اہمیت اور عزت و تکریم سے آگاہ کریں کیونکہ ایک استاد ہی بچے کا پہلا رول ماڈل ہے۔اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لئے استاد اور شاگرد دونوں کو اہم کردار نبھانے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: