دی نیوز اردو

میں چلتا ہوں مجھے دو وقت کی روٹی کمانی ہے! امتیاز احمد شاد

افلاطون نے کہا تھا کہ”ہر شہر میں دو شہر ہوتے ہیں ، ایک امیروں کا ایک غریبوں کا۔ دونوں کے اخلاق وعادات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں ،مگر ان کا مشترکہ نصب العین دو روٹی کا حصول ہے“۔غالب حد تک یہ بات حقیقت ہے مگر بہت حد تک اس میں مبالغہ آرائی کی بھی آمیزش کی گئی ہے کیونکہ ہر شہر پر یہ اصول لاگو نہیں ہوتا۔ تقریبا تمام فلاحی ریاستیں اس قسم کی تقسیم سے ماوارا ہیں۔ اب ہر ملک پاکستان نہیں ہوتا مگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ ہر شہر میں محض دو نہیں بلکہ کئی کئی شہر آباد ہیں۔ امیروں کا شہر، غریبوں کا شہر، متوسط طبقے کا شہر، امیر متوسط طبقے کا شہر، غریب متوسط طبقے کا شہراور بہت غریب لوگوں کا شہر ، مگر ” دو روٹی کا حصول “ والے نصب العین پر سو فیصد اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ہندوستان میں1960 کی دہائی میں بننے والی فلم ” دو روٹی “ میں غربت سے تنگ آیا ایک شخص جب خودکشی کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا دوست جو ایک پڑھا لکھا بابو ٹائپ ،ہر وقت امید،حالات سے لڑنے،اور طوفانوں سے ٹکرانے کا درس دیتا ہے اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے اس کے جواب میں خود کشی کرنے والا شخص کچھ اس طرح سے گویا ہوتا ہے ” ہم جیسے لوگوں کے پاس باتوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ ناامیروں کی طرح عالیشان محل ہیں جس کے باہر لوگ لائن لگایے کھڑے ہوں۔ نہ ان کی طرح کے شوق پال رکھے ہیں – ہم چالیس ڈگری سینٹی گریڈ میں کام کرنے والے مزدور ہیں۔ ہم ایک عجیب سی مڈل کلاس ہیں جس کی ساری عمر پیسہ جوڑنے میں لگ جاتی ہے اور جب وہ بوڑھی ہوجاتے ہے تو ایک نئی مڈل کلاس پود جنم لیتی ہے۔ جو پھر انہی تحریروں کو پڑھ کے نظام بدلنا چاہتی ہے۔ مگر تعلیم، گھر، نوکری تک یہ تمام اونچے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ غریب اور سفید پوش طبقہ کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو گیا ہے “ ۔جب ہیرو اپنے دوست کو تسلی کے لیئے دوبارا جذباتی الفاظ کا سہارا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ امیر ہو یا غریب سب کے سب دو روٹی کے متلاشی ہیںتو خود کشی کرنے والا شخص کہتا ہے کہ ’ ’ میرے دادا ،میرے والد اور اب میں دن رات محنت کے باوجود اپنے حالات نہ سدھار سکے “ اور جاتے ہوئے وہ ہیرو کو ایک شعر سناتا ہے جس میں ان لوگوں کے لیئے ایک بڑا سبق ہے جو تبصروں اور باتوں سے لوگوں کا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چلو تم بیٹھ کر الجھتے رہو اپنے اپنے فرقوں میں،
میں چلتا ہوں مجھے دو وقت کی روٹی کمانی ہے!!
پاکستان کی عوام کا بھی یہی حال ہے ۔ باپ دادا کے زمانے سے بیچاروں کو سولہ سولہ گھنٹے روزگار کے کولہو میں بیل کی طرح ج±تنا پڑتا ہے۔بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی کیلئے باپردہ اور شریف ترین گھرانوں کی عورتوں کو روزگار کی تلاش میں در در کے دھکے کھانا پڑتے ہیں۔ اس سخت ترین اور جان لیوا مشقت کے باوجود جب ایک غریب خاندان کاسربراہ اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے مناسب اشیائے خورو نوش خریدنے سے قاصر ر ہتا ہے تومہنگائی اورغربت سے تنگ آکر وہ خود کشی اور خود سوزی ایسا مشکل اور ناگوار ترین فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جاتاہے۔ عام آدمی غربت، افلاس اور تنگدستی سے تنگ آکر کیوں خودکشی اور خود سوزی ایسا دنیا کا مشکل ترین فیصلہ کرتا ہے ، اس کا ادراک ان حکمرانوں کو کیسے ہو سکتا ہے جن کی آل اولاد دنیا کے دیگر ممالک میں لاکھوں پاو¿نڈز مالیت کے مہنگے ترین فلیٹس کی مالک ہے۔سابق حکمرانوں نے تو جو کیا سو کیا مگر موجودہ وزیر اعظم کی بہن کی بیرون ملک جائیداد کا نکل آنا عوام کے زخموں پر نمک کے مترادف ہے ۔دکھ اس بات کا ہے کہ جس کو مسیحا سمجھا اس کے اپنے گھر سے وہی برآمد ہوا جس کی وجہ سے نواز شریف جیل میں اور آصف زرداری جیل جانے کو
تیار۔ اب میرا عوام کو یہ مشورہ ہے کہ سیاسی پنڈتوں کو واضح طور پر یہ کہہ دیا جائے کہ
چلو تم بیٹھ کر الجھتے رہو اپنے اپنے فرقوں میں،
میں چلتا ہوں مجھے دو وقت کی روٹی کمانی ہے!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: