دی نیوز اردو

ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والوں کو جنت کی بشارت-حافظ مظہر جیلانی

ماں کے ساتھ اس طرح کے خاص حسن سلوک اور صلہ رحمی پر زور دےا گےا ہے ماں بچوں کو سکھاتی ہے اور انہیں تربیت دیتی ہے، نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچپن کی تعلیم و تربیت کا اثر بچے کی زندگی پر پڑتا ہے۔دنیا کی تمام عظیم شخصیتیں اپنی عظیم ماو¿ں کی وجہ سے عظیم کہلائیں واضح رہے کہ ماں کے احسانات بہت زیادہ ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالی نے اسکے حقوق کو اتنی اہمیت دی اللہ تعالی نے قرآن کریم میں گھریلو زندگی کے متعلق سب سے زیادہ مفصل ہدایتیں دی ہیں، اتنی ہدایتیں زندگی کے دوسرے شعبے کے متعلق نہیں ملتیں۔ کیونکہ گھریلو سکون کی اہمیت اور بقا اللہ تعالی کی نظر میں بہت اہم ہے۔سورة الاسرائ: 23-25 میں والدین کے ادب و احترام کے لیے مزید تفضیل دی گئی ہے۔ ترجمہ: اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اپنے ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے اےک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا، اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا، اور دعا کرتے رہنا اے میرے پروردگار ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں پالا، جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخشنے والا ہے ان آیات میں اللہ تعالی نے اپنی اطاعت کے بعد دوبارہ والدین کے ادب و احترام کی بات کی ہے۔ان آیات میں اللہ تعالی نے ہمیں سمجھایا ہے کہ ہم بچپن میں کس طرح بے یارو مددگار تھے۔ اور والدین نے ہمیں پالا پوسا اور پروان چڑھایا ہمارے والدین ہماری ہر خواہش پوری کرتے تھے۔ مکمل خلوص اور محبت کے ساتھ، اسی لئے اولاد پر فرض ہے کہ وہ والدین کا احترام کرے۔ اور ان سے اچھا سلوک کرے۔

اگرچہ عمر کے تمام حصوں میں والدین کا احترام کرنا چاہیئے لیکن ان کی طرف زیادہ توجہ اس وقت ہونی چاہیئے جب وہ بوڑھے ہو جائیں۔ کیونکہ وہ بھی اس طرح بے یارو مددگار ہو جاتے ہیں جیسے ہم بچپن میں تھے اسی لئے اس بات پر زور دےا گےا ہے کہ۔

والدین کو بے عزتی کے طور پر چھوٹے سے چھوٹا لفظ نہیں کہنا چاہیے ، ان کے سامنے چلا کر نہیں بولنا چاہیے،انتہائی محبت بھرے لہجے اور ہمدردی کے ا انداز میں ان سے بات کرنا چاہیے، والدین کے ساتھ ہر معاملہ انتہائی فرمانبرداری اور نرمی سے کرنا چاہیے انکے ساتھ رحمدلی کا معاملہ ہونا چاہیئے اور دل کی گہرائیوں سے یہ سب کچھ ہونا چاہیے، محض دکھانے کے لئے یا روایتی انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔

ہمیں والدین کے لئے دعا کرنا چاہیئے اے اللہ ، میرے والدین پر رحم کر بالکل اسی طرح جس طرح وہ لوگ بچپن میں مجھ پر رحم و کرم کرتے تھے۔ یہ دعا ان کی موت کے بعد بھی کرتے رہنا چاہیئے ہمیں اس دعا کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالی نے خود یہ دعا ہمیں سکھائی ہے اور اس کی تلقین فرمائی ہے۔

اللہ ہمارے دلوں میں ہمارے والدین کے متعلق حقیقی محبت پیدا کردے اور ان دونوں پر اپنی رحمتیں برسادے، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں ہم پر رحم کیا۔(آمین)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: