دی نیوز اردو

تخلیقی عمل میں سوشل میڈیا کا کردار: امتیاز احمد شاد

کسی بھی معاشرے میں تخلیقی عمل اور جدت پسندی کا انحصار انفرادی آزادیوں، صحت مند مقابلے، آزادی اظہار کے تنوع اور باہمی برداشت کی وسعت پر ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نئے امکانات نئے راستوں پر چلنے سے ہی پیدا ہوتے ہیں مگر کسی بھی معاشرے کو شطربے مہار بھی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ معاشرے کے مرکزی دھارے اور علم و حکمت کے مراکز کے طور پر یونیورسٹیوں کو دیکھیں تو وہاں تو تخلیقی سوچ کا فقدان واضح نظر آتا ہے جبکہ عمومی سوچ بڑی سطحی اور تجزیے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ محض سطحی رویوں کے ساتھ تو کوئی معاشرہ فری سوسائٹی نہیں بنتا۔ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک پاکستانیوں کو زیادہ فعال ہو کر اپنی کوششوں اور ان کے نتائج کو سب کے سامنے لانا ہو گا۔ لیکن یہ ذمہ داری محض تخلیق کاروں کی نہیں۔ یہ فرض حکومت کا بھی ہے اور میڈیا کا بھی۔کسی معاشرے میں تخلیق اور جدت پسندی کے لیے سماجی ماحول اور مجموعی صورت حال کا سازگار ہونا لازم ہے۔ کیا پاکستانی معاشرہ اس وقت ویسا ہے، جیسا وہ ممکنہ طور پر ہو سکتا تھا؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہے۔ جب تک لوگ رسک نہیں لیں گے، نئے رجحانات کو آزمایا نہیں جائے گا اور آرٹ، کلچر، ادب میں نئے تخلیقی رجحانات آگے نہیں بڑھائے جائیں گے، تب تک معاشرہ ایک دقیانوسی شکنجے میں جکڑا رہے گا۔معاشرے میںترقی اسی وقت ہوتی ہے جب وہاں کے لوگ انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور اس تخلیقی جدت پسندی میں ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو ایسی حوصلہ افزائی کا رواج ہی نہیں جس کی وجہ سے نوجوان نسل تخلیق کی بجائے تخریب کی طرف نکل پڑتی ہے۔ہمارا معاشرہ تقلید پسندی کو زیادہ پسند کرتا ہے، یعنی جو چیز آپ کو بتا دی گئی ہے، امید ہوتی ہے کہ آپ کو ویسا ہی کرنا چاہیے۔دنیاوی علوم سے لے کر مذہب تک، جو بھی بتایا جائے، وہی مانا جائے۔ ہمارا پورا فلسفہ تعلیم یہ ہے کہ جو استاد بتاتا ہے، بس وہی ٹھیک ہے۔ بچوں کو شروع سے ہی یہ عادت ڈال دی جاتی ہے کہ جو کچھ بتایا جائے، وہی سچ اور حتمی ہے۔ اس سے زیادہ جاننے یا سوچنے کی ضرورت نہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے میں اس بگاڑ کی وجہ کیا ہے؟ سب سے اہم یہ کہ جو لوگ کسی معاشرے میں اخلاقیات طے کرتے ہیں، وہ خود کون ہیں اور کیسے ہیں؟ ہمارا ماحول اور ثقافت عموما کسی نئے تخلیقی رویے یا جدت پسندی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔بلکہ بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ جو نئی سوچ اور امید کی بات کرتا ہے اسے اس قدر مایوس کیا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ کسی تخلیق کی جانب بڑھنے کی جرآت نہیں کرتا۔اس سب کے باوجود بہت سے نوجوانوں نے نئی راہیں تلاش کی ہیں۔موجودہ پاکستانی معاشرے میں کچھ متاثر کن مثالیں ایسی بھی ہیں کہ مشکلات کے باوجود نامواقف حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے بہت سے جدت پسند خود کو منوا بھی رہے ہیں۔ مین سٹریم میڈیا نے جب نوجوان نسل کو مایوس کیا تو انہوں نے سوشل میڈیا کو اپنا ہتھیار بنا لیا اور اپنی صلاحیتوں اور تخلیق کو اس پر لوگوں کے سامنے پیش کیا جس کی انہیں داد بھی مل رہی ہے اور بعض لوگوں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت بھی حاصل ہے۔ تقلید پسندی سے بھر پور اس معاشرے میں سوشل میڈیا کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں کا سامنے آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ حکومت کو ایسے نوجوانوں کی نہ صرف حوصلہ آفزائی کرنی چاہیے بلکہ انہیں ہر سطح پر معاونت اور مدد بھی کرنی چاہیے تاکہ یہ پوری دنیا میں پاکستان کے بانجھ پن کی تصویر کو مٹا کر نئے پاکستان کی اصل تصویر پیش کر سکیں۔اس وقت مین سٹریم میڈیا سے نکالے گئے لوگ ہوں یا بھر نئے آنے والے نوجوان سب کے سب فیس بک، ٹویٹراور یوٹیوب پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے جوہر دکھا رہے ہیںمگر جہاں پر یہ عمل ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ہے وہاں پر اس سے بگاڑ کے خدشات بھی ہیںاس کو درست سمت دینے کے لیئے ہمارے تعلیمی اداروں،اہل علم و دانش اور بلخصوص حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اگر ہماری نوجوان نسل سوشل میڈیا کے اس ہتھیار کو درست استعمال کرنے کی عادی ہو گئی تو یقینا پاکستانی قوم میں وہ صلاحیت ہے جس سے میدان عالم کی صفوں میں کھڑا ہوا جاسکتا ہے۔بہت سے نوجوانوں نے یوٹیوب پر اپنے چینلز بنا رکھے ہیں جہاں انتہائی مفید معلومات سے مذین قیمتی خزانے موجود ہیںجس سے دیگر نوجوان مستفید بھی ہو رہے ہیں۔ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس وقت سوشل میڈیا پر متحرک ہیںاور واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ تقلیدی سوچ سے ہٹ کر تخلیقی کام کیا جارہاہے اور رجعت پسندی کی بجائے فکری جدت پسندی رواج پارہی ہے جو کہ انتہائی خوش آئند بات ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: