دی نیوز اردو

جموں: ہندو انتہا پسندوں نے کشمیری مسلمانوں کی املاک نذر آتش کر دیں

سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں غاصب بھارتی فوج پر خودکش حملے کے بعد ہندو انتہاپسندوں نے پولیس کی سرپرستی میں جموں میں کشمیری مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر املاک نذر آتش کردیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے جموں میں ہندو انتہا پسندوں نے دوسرے روز بھی کشمیری مسلمانوں پر قاتلانہ حملوں اور املاک کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں میں کرفیو کے باوجود پولیس کی سرپرستی میں ہندو انتہاپسندوں نے کشمیری مسلمانوں کے
گھروں پر دھاوا بولا اور کئی املاک کو نذرآتش کیا۔

دوسری جانب اترکھنڈ کی دیوبومی یونیورسٹی میں زیر تعلیم 50 کشمیری طلباء کو یونیورسٹی انتظامیہ نے ہاسٹل خالی کرکے
واپس گھروں کو جانے کا حکم دیا ہے۔
حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی انتہاپسندوں کی جانب سے کشمیریوں کی املاک کو نذر آتش کرنے اور کشمیری طلباء پر تشدد کے واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ “کرفیو‘‘ کے باوجود جموں اور بھارت کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری، طلباء، تاجر پیشہ افراد پر انتہاپسندوں کی جانب سے جان لیوا حملے اور ان کے مال و جائیداد کو نقصان پہنچانے کے واقعات انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: