دی نیوز اردو

دفاع مضبوط کریں—-امتیاز احمد شاد

سرحدوں پر تناو ہے کیا؟ پتا کرو چناو ہے کیا؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مرتبہ پھرگرم ہواوں کے تھپیڑوں کا زور ہے۔ہندوستان کی طرف سے پاکستان کو دھمکیوں کا ملنا کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اس بار پھر بھارت کا جارحانہ اور پاک دشمنی پر مبنی یہ رویہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان سے دشمنی بھارت کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ ۔ 1947 میں دونوں ممالک کے قیام کے بعد سے ہی باہمی تعلقات میں کشیدگی چلی آرہی ہے۔ اس کشیدگی کی بنا پر دونوں ممالک میں چار جنگیں بھی لڑی جا چکی ہیں مگر معاملہ آج بھی وہیں کا وہیں ہے۔ اگر دیکھا جائے تو تنازعے کی بہت سی وجوہات ہیں مگر اس میں ہمیشہ سے کشمیر کا تنازعہ ایک بنیادی عنصر رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے مگر ہندوستان کا رویہ اس کے برعکس ہی رہا ہے۔ بظاہر دنیا کے دباﺅ اور اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے ہندوستان بات چیت کا پرچار تو کرتا ہے مگر عملاً اسکا رویہ اس کے برعکس ہی ہوتا ہے۔ کشمیر بین الاقوامی سطح پرایک تسلیم ش±دہ حل طلب مسئلہ ہے جس پر اقوامِ متحدہ کی قراردادیں بھی موجود ہیں۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ میںیہ مسئلہ لے کر بھی ہندوستان ہی گیا تھا مگر ان قراردادوں پر عمل کرنے سے خود ہی انحراف کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان ہر وقت کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتا ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے چاہے وہ آبی وسائل کا مسئلہ ہو،سرحدی تنازعات کا یا پھر پاکستان میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کو ہوا دینے کا وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ہندوستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ جب بھی پاکستان ایک قدم آگے بڑھنے کی بات کرتا ہے تو و ہ دس قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔پاکستان میں کسی بھی جماعت نے ہندوستان مخالف آواز اٹھا کر آج تک سیاست نہیں کی ، یہاں آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں ان کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کبھی کسی رہنما نے ہندوستان کو گالیاں دے کر انتخابی مہم نہیں چلائی اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاست میں کبھی بھی ہندوستان دشمنی حاوی نہیں ہوئی جبکہ ہندوستانی سیاست میں پاکستان دشمنی ووٹ اور حمایت حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔جب بھی وہاں الیکشن کا ماحول ہوتا ہے سرحدوں پر تناو دکھائی دینے لگتا ہے۔ڈاکٹر راحت اندوری ہندوستان کے بہت اعلی پائے کے شاعر ہیں انہوں نے ایک اپنی غزل میں کچھ یوں کہا؛ سرحدوں پر تناو ہے کیا؟ پتا کرو چناو ہے کیا؟ اس شعر میں ہندوستان کی سیاست اور پاک بھارت تعلقات کی پوری تفصیل پنہاں ہے۔آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ ہندوستان آج تک پاکستان کو ہضم نہیں کر پایا؟اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ 14 اگست 1947 میں پاکستان وجود میں آیا تو دنیا کی طاقتوں نے پاکستان کی اہمیت کے متعلق تحقیق کرکے مستقبل میں پاکستان کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات استوار کرنا طے کیے۔ 1947 میں امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ جارج سی مارشل نے کہا کہ:۔”سات کروڑ آبادی کا ملک پاکستان دنیا کی سب سے بڑی مملکت ہو گی اور دنیا کی انتہائی اہمیت کے حامل تزویراتی علاقوں میں سے ایک اہم تزویراتی علاقہ پر مشتمل ہو گا“۔ہندوستان نے جب دنیا کے نقشے پر یوں پاکستان کی پزیرائی دیکھی تو کم ظرفی کے گھوڑے پر سوار ہو کر حسد اور بے بسی کے میدان میں نکل آیا۔اور تو شاید اس کے بس میں کچھ نہ تھا بے چارے کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیئے فقط اس لیئے کہ ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ سابقہ روایت کو زندہ رکھتے ہوئے پلوامہ واقع کا الزام بھی پاکستان کے سر تھومپ دیا حالانکہ ہندوستان کے باشعور لوگ اور کچھ سنیئرز فوجی اس بات کا دو ٹوک اعلان بھی کر رہے ہیں کہ جہاں پر یہ واقع رونما ہوا ہے وہاں تک سرحد پار سے اتنا بارود لایا ہی نہیں جا سکتا۔دوسری بات حملہ آور کشمیری تھا ،وہی کشمیری بیچارا جو سالہا سال سے ظلم کے ہر انداز کو سہتا چلا آرہا ہے۔ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پلوامہ کے حملے کے ساتھ پاکستان سے بات چیت کا وقت ختم ہو گیا اور اب دہشت گردی کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ہندو قوم پرست اور انتہاءپسند تنظیمیں اس وقت بہت سرگرم ہیں اور پاکستان کے خلاف جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا انعقاد کر رہی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سول اور فوجی قیادت نے مل کر ہندوستان کو اس زبان میں جواب دیا ہے جس کی اسے سمجھ آتی ہے۔اگر مگر چونکہ چنانچہ کیے بے غیر بھارت کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کرنے پر منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ پر جوابی حملہ کرنے کا پاکستان سوچے گا تو یہ آپ کی بھول ہے ، پاکستان سوچے گا نہیںبلکہ جوابی حملہ کرے گا۔ پاکستان کے پاس جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں نئی سوچ آنی چاہیے اوراسے سوچنا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ کشمیری نوجوان اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ انھیں اب موت کا بھی خوف نہیں رہا۔اس سب کے باوجود حکومت پاکستان کو بھی ےہ بات ذہن نشین کرنی ہو گی کہ ہندوستان ایک عیار ہمسائیہ ملک ہے وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آئے گا ، یہ بات بھی سچ ہے کہ پاک فوج جذبہ شہادت سے لبریز ہے مگر دفاع کا مضبوط ہوناہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ دفاعی مضبوطی کے لیئے دفاعی بجٹ میں اضافہ ضروری ہے۔ملک کے اندر اور سرحدوں پر دہشت کے منڈلاتے بادل یقینا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں ۔اگر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا فیصلہ کر ہی لیا گیا ہے تو پھرلاءاینڈ آڈر کی صورتحال پر نظر رکھنے والوں اور سرحدوں کے امین فوجی جوانوں کو ہر وہ سہولت بآسانی فرہم کی جائے جس سے وہ بڑی فوجی طاقت کے دعوے دار کو چھٹی کا دودھ یاد کرا سکیں۔ایسا ماحول پیدا ہو کہ پھر کوئی کلبھوشن یادیو پاک سر زمین پر قدم رکھنے کی جرآت نہ کر سکے اور نہ ہی سرحدوں پر ہندوستان کو ٹک ٹک کی ہمت ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: