دی نیوز اردو

غريب كى بيٹى — شہباز اكمل پرواز کی سبق آموز تحریر

غريب كى بيٹى: (شہباز اكمل پرواز)
کل ميرى ايک سٹوڈنٹ کا میسج آیا کہ سر کوئی اچھی سی جاب بتا سکتے ہیں ؟ جب میں نے وجہ پوچھی تو حیرانى کے ساتھ خاموش سا ہوگیا۔جب اس نے بتايا كه کچھ دن پہلے اک فیملی ميرا رشته مانگنے آئی.اور سر وه كسى بڑے گهر سے تهے يا هما رى حيثيت سے ذياده تهے. كهنے لگے لڑکی ماشااللہ پیاری ہے اور ماسٹر کیا ہوا ہے۔ ميں چائے دینے کے بعد روم میں چلی گئی۔
کچھ تعریفوں کے بعد بات پکی ہونے لگی تو سوال جہیز کا آگیا ۔ لڑکے کی ماں نے کہا کے ہمارے خاندان میں یہ رواج ہے کہ 15 تولہ سونا 10 مرلے کا پلاٹ اور فلاں فلاں سامان فرنیچر ہوتا اور ساتھ بیٹھا بیٹا چائے کے سپ لیتا رہا۔ کچھ دیر پہلے جہاں لڑکی کی بات اور ہنسی مزاق ہو رہا تھا اب وہاں سناٹا تھا۔
آخر کار جواب نا ہو گیا۔ لڑکی ڈر کے مارے کمرے سے نا نکل رہی تھی۔ آخر برتن اٹھانے کے لیے آئی تو غیرت مند (پڑھا لکھا بےروزگار )بھائی بولا ” جتنا اس کو پڑھانے پر پیسا لگایا اس سے اچھا تھا جہیز بنا لیتے۔ پھر غصہ سے بہن کی طرف مخاطب ہوا کہ اتنا باپ نے پڑھایا ہے کوئی اچھی جاب کر اور جہیز بنا۔وہاں بیٹھا باپ خاموش تھا اور ماں آنسو بہا رہی تھی۔
میں اکثر جو لکھتا ہوں کہانی نہیں حقیقت لکھتا ہوں۔باقی اگر جہیز کی پوسٹ کردو تو ہر مرد یہاں “جہیز لعنت ہے” کہنے لگتا ہے اور حقیقت میں خاموش بیٹھے چائے پیتے ہیں۔
هم ميں سے هر صاحب مال جن كے پاس اگر وافر مال و دولت،اچها گهر،اچهى گاڑى هے تو خدارا اس كو اپنى شان و شوكت بنا كر كسى غريب كے گهر رشته لينے جايئں تو ان چيزوں كا رعب نه دكهايئں اور نه هى اس طرح كى ڈيمانڈ كريں كه وه آپ كى برابرى اور حيثيت كے مطابق جہيز ديں.لوگوں كا درد بانٹيں اور آسانى پيدا كرنے كا ذريعه بنيں تاكه قيامت كے دن الله كے حضور پيش هوتے هوۓ شرمندگى نه هو اور الله تعالى كى ناراضگى سے بچ جايئں.
آج كل هم ميں سے ايک اكثريت چاهے وه مرد هوں يا عورتيں مال و دولت اور شہرت كى حوس ميں برى طرح سے مبتلا هيں اور ان چيزوں كو حاصل كرنے كے ليۓ نا جائز اور جائز ميں فرق تک بهول جاتے هيں. مجهے ميرے بابا كى نصيحت ياد آ رهى هے بابا اكثر مجهے كہتے هيں كه بيٹا كتنا هى اچها هو گا كه اگر آپ كے پاس الله كا ديا هوا سب كچھ هو ،گهر گاڑى بنك بيلنس،اپنا بزنس يا بہت اچهى ملازمت آپ كے پاس هو اور بہت بڑے امير لوگوں كے گهر سے رشتے آ رهے هوں ليكن آپ وه ٹهكرا كر ايك انتہائ غريب گهر كى بيٹى سے نكاح كرو تو كتنا هى حسين وقت هو گا اور يقينا الله اور الله كا رسول بهى خوش هو گا. ليكن بد قسمتى سے اب لوگ اپنى برابرى والے گهرانے ميں رشتے كرتے هيں اور جہيز اور اس جيسى بہت سارى فضول رسموں كو پروان چڑهاتے هيں كه اب يه رسميں اس معاشرے ميں رائج هو چكى هيں جس كے نتيجے ميں اب غريبوں كى بيٹاں گهر ميں بيٹهى ره گئ هيں كيونكه ان سے جہيز كا انتظام نہيں هو سكتا.هر صاحب مال كو چاهيے كه جب بهى وه كسى گهر رشته لينے جايئں تو سب سے پہلے كسى غريب كے گهر رجوع كريں اور ان سے بغير كسى جہيز كى ڈيمانڈ كيۓ رشته كر ليں تاكه ايک غريب كى بيٹى ايک بڑے گهر كى بہو بن سكے.
الله كے رسول الله صلى الله عليه واله وسلم نے ہميشه غريبوں ،يتيموں اور مسكينوں كے ساته رحمدلى كا درس ديا اور فرمايا قيامت كے دن سب سے ذياده ميرے قريب ميرى امت كے غريب لوگ هوں گے.الله تعالى سے دعا هے كه هم كسى غريب اور ضرورت مند كے كام آسكيں كسى كى خوشى اور آسانى كا ذريعه بن سكيں.الله كےهاں كوئ امير اور غريب ميں برترى نہيں سب برابر هيں.يه اميرى غريبى سب همارے ليۓ ايك آزمائش هے الله اس آزمائش ميں هم سب كو اپنى رحمت سے اپنى مدد كے ساتھ كميابى عطاء فرماۓ.آمين

One thought on “غريب كى بيٹى — شہباز اكمل پرواز کی سبق آموز تحریر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: