دی نیوز اردو

ہریالی ذہنی مسائل سے دوررکھتی ہے، تحقیق

حالیہ تحقیق کے مطابق ، امریکا میں ذہنی صحت سے جڑے مسائل میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ ذہنی دباؤ اور پریشانی کے بڑھتے ہوئے کیس بتائے جاتے ہیں۔

اس مسئلے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں جدید دنیا کے مطالبات ، جیسے مسلسل رابطے میں رہنا، اب چاہے وہ ای میل کے ذریعے ہو ، فون یا سوشل میڈیا کے ذریعے، ماحولیاتی مسائل جیسے آلودگی وغیرہ بھی اس کی وجوہات ہیں۔ یہ صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس وقت دنیا بھر سے محققین اس مسئلے پر تحقیق کر رہے ہیں۔

ڈنمارک کی یونیورسٹی آرہوس میں ہونے والی تحقیق نے قدرتی سبزے والے ماحول اور جوانی میں بہتر ذہنی صحت میں تعلق ڈھونڈ لیا ہے۔

تحقیق میں سیٹلائٹ سے لیا گیا ڈیٹا استعمال کیا گیا ہے ، یہ ڈیٹا 1985 سے لے کر 2013 تک جمع کیا گیا ہے۔ اس میں 900٫000 لوگوں کا مشاہدہ کیا گیا جو سبزے کے قریب رہتے تھے۔

محققین نے اس ڈیٹا میں شامل بچوں کی جوانی تک کے 16 ذہنی مسائل کو جانچا۔ اس جانچ سے ثابت ہوا کہ جن لوگوں نے بچپن سے لے کر جوانی تک کا وقت سبزے کے بیچ میں گزارا، ان میں دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ذہنی مسائل کم سامنے آئے۔

اس تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد نے اپنی ابتدائی عمر سے لے کر 10 سال کی عمر ہری بھری جگہوں پر گزاری ہے وہ بڑے ہونے پر اچھی صحت کے حامل ہوتے ہیں۔

محققین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومتی اداروں کو پہلے سے موجود سبزے والی جگہوں کی حفاظت کرنی چاہیے اور مزید سبزے کو پیدا کرنے کے طریقہ کار پر غور کرنا چاہیے۔

حالیہ تحقیق کے نتائج میں اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ قدرت کے قریب رہنا ذہنی صحت کے لیے بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

لوگ مسلسل دیہی علاقوں سے بہتر زندگی کی تلاش میں شہری علاقوں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔جس سے سبز علاقوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے اور ذہنی مسائل میں زیادتی ہورہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اکنامک اور سوشل افیئر شعبے کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی 55 فیصد آبادی خود سے تعمیر کیے گئے قدرت سے دور علاقوں میں رہتی ہے اور یہ تعداد 2050 تک 68 فی صد بڑھ جائے گی۔

اس تحقیق میں شامل ایک محقق پروفیسر جینس کرسٹین سویننگ کے مطابق سبزے اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق ثابت ہو جانے کے بعد شہری آبادی کی منصوبہ بندی میں انھیں ہرا بھرا اور صحت مند بنانے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔اس سے شہر میں بسنے والے لوگ مستقبل میں ذہنی بیماریوں سے آزاد زندگی گزار سکیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: