دی نیوز اردو

’اسلامو فوبیا‘ تحریر امتیاز احمد شاد

’اسلامو فوبیا‘ تحریر امتیاز احمد شاد
’اسلامو فوبیا‘ سے مراد، اسلام، مسلمان اور اسلامی تہذ یب و ثقافت سے نفرت اور خوف کا اظہار اور عمل ہے۔’اسلامو فوبیا‘ ایک ایسا نظر یہ ہے جس کے مطابق دنیا کے تمام یا اکثر مسلمان جنونی ہو تے ہیں جو غیر مسلموں کے بارے میں متشددانہ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اہلِ مغرب بد ترین اسلاموفوبیا کا شکار ہیں۔ لیکن اسلاموفوبیا کی اصطلاح بجائے خود اس لائق ہے کہ اس پر کلام کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلاموفوبیا کی اصطلاح سے عام طور پر منفی معنی برآمد کیے جاتے ہیں، اور نہ صرف یہ بلکہ ان معنی کا بار خود بیچارے مسلمانوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ فوبیا ایک نفسیاتی بیماری ہے اور کسی چیز کے شدید خوف کو ظاہر کرتی ہے۔ مغرب میں اسلاموفوبیا کے عام ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مغربی دنیا کے لوگ اسلام کے شدید خوف میں مبتلا ہیں۔ مگر خوف کسی انتہائی طاقت ور چیز سے محسوس کیا جاتا ہے۔ انسان خدا سے ڈرتا ہے اس لیے کہ وہ خدا کو انتہائی طاقت ور سمجھتا ہے۔انسان جنوں اور بھوتوں سے خوف زدہ ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ انہیں اپنے آپ سے ہزاروں گ±نا زیادہ قوی خیال کرتا ہے۔ انسان پانی یا آگ سے خوف محسوس کرتا ہے ، اس لیے کہ وہ انہیں اپنے آپ سے زیادہ پ±ر قوت خیال کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ اسلام اور اہلِ مغرب کے تعلق کا ہے۔ وہ اپنے باطن میں اسلام کو انتہائی طاقت ور، دل کش اور اثر انگیز محسوس کرتے ہیں۔ مغربی دنیا کے دانش ور طبقہ تو دور کی بات ہے بعض مسلمان اہلِ نظر بھی اسلاموفوبیا کی جڑیں مسلمانوں سے وابستہ منفی باتوں میں تلاش کرتے ہیں۔ آزاد خیال مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہمیں ترقی کے لیئے یورپی طرز حیات کو اپنانا چاہیئے دوسری جانب مغربی دانش وروں کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین مغرب میں رہ کر بھی پردہ کرتی ہیں، روایتی لباس زیبِ تن کرتی ہیں۔مسلمان ہر جگہ حلال گوشت پر اصرار کرتے ہیں۔خواتین کو قیدی بنا کر رکھتے ہیں، نہ شراب پیتے ہیں اور نہ شراب خانوں میں جاتے ہیں اور سب سے اہم بات وہ اپنے پیغمبر کے بارے میں کوئی گستاخی برداشت نہیں کرتے لہذا ایسی عادات انہیں شدت پسندی کی جانب راغب کرتی ہیں۔ اس سوچ کو اگر بغور دیکھا جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر مسلمان پردہ،حلال حرام کی تمیز،شراب اور ناموس رسالت ﷺ ایسے معاملات میں یورپ کی تقلید کر لیں توشدت پسندی ختم کی جاسکتی ہے۔ ویسے تو جب نبی اکرم ﷺنے نبوت کا اعلان کیا تو اسلام دشمنی کا آغاز اسی وقت ہو گیا مگر ’اسلامو فوبیا‘ منظم طر یقے سے صلیبی جنگوں سے شروع ہوا، کیوںکہ عیسا ئی دنیا کو فوج کی کثرت اور بے شمار وسائل کے باوجود کچھ فائدہ حاصل نہیں ہو ا۔مشہور مصنفہ اور راہبہ کیرن آرم سٹرانگ نے اعتراف کیا کہ:”اسلامو فوبیا کی تاریخ صلیبی جنگوں سے ملتی ہے“۔ یعنی عیسائی دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اور خوف رکھنے کی تاریخ محفوظ ومدون ہے۔
’اسلامو فوبیا‘ میں مسلمانوں کو نفسیاتی ،سماجی اور تہذیبی طور پر ہراساں کر نا اور اسلام کے ماننے والوں کو ملک و قوم کے اقتصادی ،سماجی ،سیاسی اور روز مرہ زندگی سے بے دخل کر نا بھی شامل ہے۔دنیا میں مسلم اقلیتوں کے ساتھ عملاً ایسا ہی سلوک ہو رہا ہے۔مخا لفینِ اسلام کی طرف سے یہ مبنی بر جاہلیت بات بھی دہرائی جاتی ہے کہ: ”اسلام میں کو ئی تہذیب ہی نہیں ہے اوراگر ہے بھی تو وہ مغربی تہذیب سے ہر اعتبار سے کم تر ہے“۔ علاوہ ازیںوہ اپنے آپ کو اعلیٰ اور مسلمانوں کو کم تر باور کر تے ہیں۔
بر طانوی تحقیقی ادارے ’دی ر±ونی میڈ ٹرسٹ نے1997 میں ’اسلاموفوبیا ہم سب کے لیے چیلنج‘ کے عنوان کے تحت ایک دستاویز تحریر کی جس کے عنوان پڑھ کر انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے کہ اس قدر یورپ میں اسلام کے خلاف بغض پایا جاتا ہے۔
٭ اسلام ایک توحید پرست، جامد اور ناقابلِ تغیر مذہب ہے۔٭اسلام ایسا منفرد مذہب ہے، جس میں دیگر مذاہب اور تہذیبوں سے مختلف اقدار ہیں۔ ٭یہ غیرمعقول،قدامت پرست، جنسی تفریق پر مبنی، خطر ناک، دہشت گردی اور تہذیبی تصادم کو فروغ دینے والا مذہب ہے۔٭مغر بی فکر و تہذیب سے کم تر مذہب ہے۔ ٭ اسلام ایک سیاسی نظر یہ ہے ٭اسلام مغر بی فکر و اقدار پر غیر معمولی تنقید کر تا ہے۔
دوسری جانب دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مغرب کی سیکیولر اور لبرل فکر نے مذاہبِ عالم اور مذہبی تہذیبوں کا دھڑن تختہ کر دیا ہے۔ مغرب کی سیکیولر اور لبرل فکر عیسائیت کو کھا گئی، یہودیت کو ہضم کر لیا، ہندو ازم اور بدھ ازم کو دیوار سے لگا دیا۔ لیکن اسلام سیکیولر اور لبرل فکر کی نہ صرف مزاحمت کرتا آ رہا ہے بلکہ اس نے گزشتہ دو سو سال میں اپنے تشخص کا کامیابی کے ساتھ دفاع بھی کیا ہے۔اسلام اور مسلمانوں کے مصمم ارادوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملوں میں شہید ہونے والوں کے ساتھ نیوزی لینڈ کی عوام اور حکومت سے لیکر دنیا کے ہر باشعور طبقے نے ایسی محبت کا اظہار کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ نے اسلام اور پاکستان کے خلاف اپنے بغض کا اظہار کیا جس سے اسلامو فوبیا کی بوآ رہی ہے ۔یہ بات تو واضح ہے کہ مغرب کی مشہورِ زمانہ تکثیر پسندی تحلیل ہو رہی ہے۔ یہ منظر بھی ساری دنیا کے سامنے ہے کہ جیسے ہی کسی مسلم ملک میں کوئی اسلامی تحریک جمہوریت کے راستے اقتدار میں آتی ہے مغرب اس کے خلاف سازشیں کرنے لگتا ہے۔اس صورت حال نے مغرب کی جمہوریت پسندی کو مذاق بنا دیا ہے۔ یہ حقائق بتاتے ہیں کہ مغرب کا اسلاموفوبیا اسلام اور مسلمانوں کی طاقت سے زیادہ متعلق ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو مغرب کے لوگوں کو کم مسلمان زیادہ نہ نظر آتے۔ اس سب کے باوجود مسلمانوں کو متحد ہو کر اپنی آواز میں قوت پیدا کرنا ہو گی وگرنہ دنیا کے ہر کونے میں گردنیں بھی مسلمانوں کی کٹیں گی اور دہشتگرد بھی وہی کہلائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: