دی نیوز اردو

حدِ جاں سے گزرنا چاہتی ہیں: سجاد انور

حدِ جاں سے گزرنا چاہتی ہیں
امنگیں رقص کرنا چاہتی ہیں

تری دہلیز پر آنکھیں ہماری
دیے کی طرح جلنا چاہتی ہیں

اٹھائو آفتاب رخ سے پردہ
مری صبحیں اترنا چاہتی ہیں

مری تنہائیاں بھی سر پھری ہیں
جدائی سے مکرنا چاہتی ہیں

چلو سجاد ان کو ڈھونڈتے ہیں
یہ امیدیں بکھرنا چاہتی ہیں

4 thoughts on “حدِ جاں سے گزرنا چاہتی ہیں: سجاد انور

Leave a Reply to Hameed Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: