دی نیوز اردو

’سیدھا راستہ ،
امتیاز احمد شاد
ٓآگ پانی ہوا اور مٹی سے بنا انسان بنیادی طور پر روحانی اور جسمانی خوراک کا متلاشی ہے۔اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر جن چار عناصر آگ پانی ہوا اور مٹی سے تشکیل دیا انہی عناصر پر دسترس بھی عطاءکی تاکہ وہ اپنے وجود سے نکل کر کائنات کے رازوں کو مسخر بھی کر سکے۔اتنی بڑی طاقت ملنے کے بعد بھی انسان روحانی اور جسمانی خوراک کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ جسم کو ڈھانپنے سے لیکر پیٹ کی آگ بجھانے تک کے انتھک سفر نے اسے لالچی،خودغرض،مال و دولت کا رسیا بنا دیا۔اپنی ضرورت سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ جمع کرنے کی عادت نے اسے انسانیت کے اس فلسفے سے ہی دور کر دیا جس کی بنیاد پر اللہ تعالی نے اس کائنات کووجود دیا۔گذشتہ دو سالوں سے میں مسلسل تحقیق پر لگ گیا کہ مہنگائی کی آخر کیا وجوہات ہیں؟ کھانے پینے کی اشیاء اچانک اتنی مہنگی کیوں ہو جاتی ہیں کہ عام عوام کے لیئے پیٹ بھر کر کھانا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔بہت سی وجوہات سامنے آئیں مگرچند ایسی وجوہات معلوم ہوئیں جن کو اپنے قارئین اور حکمرانوں کے سامنے لانا ضروری سمجھا۔دیہاتوں میں ذمیندار پریشان بلکہ بدحال ہے کہ اس کی فصل اونے پونے خریدی جاتی ہے۔شہروں میں بسنے والے اس بات سے فکر مند کہ سبزی، دال آٹا اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ایک ہفتہ پہلے سبز منڈی سے بھنڈی توری 200روپے فی کلو خرید ی تو تجسس بڑھا کہ کسی دیہات کا دورہ کیا جائے جہاں اس کی فصل تیار ہے، وہاں جا کر دماغ ایسے سکتے میں آ گیا کہ اس کیفیت کو بیان کرنا بھی دشوار ہے۔ایک ذمیندار نے بتایا کہ 30 کلو کا توڑا ہم سے 800 اور 900کے درمیان خریدا جا رہا ہے اس کا مطلب 25 سے30 روپے فی کلو خرید کر 200روپے فی کلو بازار میں بیچا جا رہا ہے۔سکول میں ہیڈ ماسٹر نے ٹیچر سے کہا کلاس میں سب بچوں کو کہہ دیں کل 10روپے سکول لیکر آنے ہیں ،ٹیچر نے بچوں کو بیس روپے لانے کے لیئے کہہ دیا بچے نے امی کو 40روپے سکول لے جانے کو کہا اور امی نے اپنے میاں کو سکول کے لیئے 100روپے جمع کروانے کا کہا۔ اس طرح چند لمحوں میں 10 روپے کی بات 100 روپے تک پہنچ گئی،یہی عمل اس قوم کے ساتھ دن رات دہرایا جارہا ہے۔ہر صبح نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے جس سے یہ قوم دو وقت کی روٹی پوری کرنے سے بھی قاصر ہے۔رمضان المبارک میں تو یہ سلسلہ اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ایک دیرینہ دوست سے ملاقات ہوئی ،پوچھا کہ کہاں مصروف ہو تو اس نے بتایا کہ آج کل کافی مصروفیت ہے رمضان کی آمد آمد ہے جو پیسہ تھا سب کا مال اٹھا لیا ہے اسے سٹور کر رہا ہوں تاکہ رمضان میں کما سکوں۔ایسے حالات و واقعات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ،انسان سوچ میں پڑھ جاتا ہے کہ مسلمان تو دور کی بات کیا ہم انسان بھی کہلانے کے لائق ہیں؟ حکومتیں اچھی اور بری آتی جاتی رہتیں ہیں ،ممالک اور اقوام پر بھی اچھے اور برے وقت آتے ہیں مگر ذخیرہ اندوزی اور لوٹ مار کے عمل سے جو تباہی آتی ہے اس کو سنبھالنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جاتا ہے۔اسی طرح انسان کی دوسری ضرورت روحانی تسکین ہے جسے تلاش کرنے کے لیئے وہ مذہب کا سہارا لیتا ہے اس عمل کی رفتار رمضان المبارک میں بڑھ جاتی ہے۔بدقسمتی سے اس خوراک میں بھی ملاوٹ اور شعبدہ بازی نے خاصی جگہ بنا لی ہے۔سحر اور افطار کے اوقات میں ٹی وی سکرین پر ایسے لوگ دین کی تبلیغ کرنے پر مامور ہوتے ہیں جو پورا سال کلچر کے نام پر فحاشی کو پروان چڑھاتے ہیں۔پاکستانی عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ نہ تو اسے پیٹ بھرنے کے لیئے خالص غذا میسر ہے اور نہ ہی روح کی تسکین کے لیئے جید اور مستند علماءکی گفتگو۔ قوت خرید میں کمی اور بد اخلاقی کو عروج ملنا انسانوں کو متعدد درجوں میں منقسم کرتا ہے جس سے پسماندہ اور بیمار ذہن معاشرہ تشکیل پاتا ہے جسے درست سمت میں آتے آتے مہینوں کی بجائے سالوں کا سفر درکار ہوتا ہے۔ایسے اقدام کی روک تھام کے لیئے عوام میںخود احتسابی کے انقلاب کا برپا ہونا لازم ہے۔حکومت وقت کا کام نگرانی کرنا ،لوگوں کو مناسب اور یکساںمواقع فراہم کرنا،کسانوں تاجروں اور مزدوروں کے لیئے آسانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے تاکہ سرمایہ گردش میں رہے اور اشیاءضرورت عام عوام کی دسترس میں ہو۔ذخیرہ اندوزوں اور قیمتوں کو آسمان پر لے جانے والوں کے دلوں میں انسانیت پیدا کرنا تو شاید حکومت کا کام نہیں مگر ایسے لوگوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا تو حکومت کا اولین فریضہ ہے۔رمضان المبارک میں ٹی وی سکرین پر مسخروں کی بجائے ، مفکرین ،علماءکرام اور سکالرز کو جگہ دی جائے جو عوام کو اسلام اور انسانیت کے حقیقی پیغام اور کام سے آشنا کریں۔ان تجاویز پر عمل کرنے کے لیئے کسی سرمائے کی ضرورت نہیں بلکہ ترجیح درکار ہے۔آج کی معاشی سپر طاقت چین کو چند عشروں قبل جس معاشی بدحالی اور اخلاقی تباہی کا سامنا تھا شاید ہی کسی قوم کو ایسی مشکلات رہی ہوں مگر وہاں کی لیڈرشپ نے لوگوں میں شعور پیدا کیا،مقامی لوگوں کو مسائل سے نکلنے کے لیئے وسائل فراہم کیئے،گھریلو صنعت کو پروان چڑھایا،کسان کو اجناس منڈیوں تک لانے میں نہ صرف سہولت فراہم کی بلکہ انہیں سرمایا دار کے چنگل سے بھی محفوظ کیاجس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ یورپ جو چین کو بیمار قوم اور گمنام خطے کے القاب سے نواز چکا تھااسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیئے اسی قوم سے ہاتھ ملانا پڑا۔تبدیلی کی خواہاں حکومت کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ رمضان کے بابرکت مہینے میں لوگوں کو بنیادی اشیاءمناسب داموں فراہم کرنے کے لیئے ٹاسک فورس ترتیب دے اور ذخیرہ اندوزوں ، خود ساختہ مہنگائی کا سونامی برپا کرنے والوں اور حکومت کی رٹ کے راستے میں روکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کو عبرت ناک انجام تک پہنچائے اور ساتھ ہی میڈیا پر کرائے کے دین فروشوں اور مسخروں کی بجائے اسلام کی اصل روح کو بیان کرنے والے افراد کو تلاش کر کے لایا جائے تاکہ دہائیوں سے مذہب کے نام پر بےوقوف بنائی گئی اس قوم کو دین کا درست فہم ہو سکے۔یاد رکھیں چین اور ملائشیا ایسے ممالک نے ترقی کا سفر ملک میں اندرونی استحکام پیدا کر کے کیا ہے اور بیرونی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے آگے بڑھنے کی رفتار کو تیز تر کیا جس نے آج اقوام عالم میں ان کا مقام بلند کردیا۔عمران خان ان دونوں ممالک سے بہت زیادہ متاثر بھی ہیں اس لیئے سزا جزاکا عمل ان ممالک کے ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوئے لاگو کرنا چاہیئے تاکہ سالوں کا سفر مہینوں پر محیط ہو جائے۔منزل ملنا یا نہ ملنا ایک الگ بحث ہے مگر سیدھی راہ کا انتخاب تو انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔سیدھا راستہ کٹھن ضرور ہوتا ہے مگر کامیابی اسی پر ہی ہے۔حکومت وقت اپنی سمت درست کرے کامیابی یقینا اللہ تعالی عطا کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: