Ads

"بچوں کو کدھر لے جا رہے ہو"

"بچوں کو کدھر لے جا رہے ہو"
ازقلم:آمنہ جبیں (ڈاہرانوالہ)


آج میں مستقبل کی اور آج کی ماؤں سے
 مخاطب ہوں
بچپن میں اپنے بچے کو کیسا ماحول دیا یا دینا چاہتی ہیں؟
اپنے بچے کو بچپن میں کس چیز کا خواب دکھایا ہے؟ دنیا یا جنت ؟
اپنے بچے کو کس جہاں کی کامیابی کے لیے تیار کیا ہے؟ 
اپنے بچے کے کس عمل پہ خوشی ہوتی ہے؟ 
اپنے بچوں کو دل لبھانے کے لیے فون پہ کیا لگا کر دیتی ہیں؟ سونگ ،کارٹون، یا تلاوت قرآن
آج کی ماں اور کل آنے والی مائیں محاسبہ کریں 
"ٹھریں اور غور سے سنیں!"
"Don't make your children perfect for this ordinary life make your children perfect for Jnna life"
"اپنے بچوں کو اس دنیا کی زندگی کے لیے پرفیکٹ نہ بنائیں انہیں جنت کی زندگی کے لیے پرفیکٹ بنائیں۔"
آپ اپنے بچے کے لیے یقیناً خواب رکھتی ہوں گی۔ میرا بچہ بڑا ہو کر پائیلٹ، انجینئر، ڈاکٹر، سائنسدان،بنے گا اس کی زندگی اچھی گزر جائے گی۔ اس کا ایک نام ہو گا۔ لوگ ہماری تعریف کریں گے۔ کہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی اتنی قابل اتنی پڑھی لکھی ہے۔ فلاں کی اولاد اس پوسٹ پہ ہے۔ یوں ہماری عزت و تکریم میں اصافہ ہو گا۔ اور ہمارا بڑھاپا سکون سے اختتام پا جائے گا۔
اگر میں یہاں پہ ایک واقعہ سامنے رکھوں تو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ ایک شخص کا بیٹا تھا جو پڑھنے میں دلچسپی نہ رکھتا تھا۔ باپ اسے کہتا پڑھ لیا کرو۔ وہ کہتا پڑھ کر کیا ہو گا؟ باپ نے کہا تم پڑھ کر تعلیم یافتہ بن جاؤ گے۔ بیٹے نے پوچھا پھر کیا ہو گا؟ باپ نے کہا پھر تم اچھی نوکری پہ لگ جاؤ گے۔ بیٹے نے پھر کہا کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ باپ نے کہا پھر تمہارے پاس پیسے ہوں گے تم اپنا گھر بنا سکو گے۔ اور شادی کر سکو گے۔ بیٹے نے پھر سوال کیا ابا! اس کے بعد کیا ہو گا۔ باپ نے کہا پھر تمہاری اولاد ہو گی۔ جب آخری بار بیٹے نے سوال کیا اس کے بعد؟؟ باپ نے کہا: اس کے بعد تم سکون سے اپنی زندگی جی سکو گے۔ تو بیٹے نے متاثر کن جواب دیا:
"ابا! تو پھر سکون کے لیے اتنا پڑھنے کی کیا ضرورت ہے سکون میں تو میں اب بھی ہوں۔ یعنی نہ پڑھ کر بھی تو سکون میں ہی ہوں" 
یعنی ایک باپ کی ترجیح دیکھ لیں۔ بے شک ماں باپ اولاد کا برا نہیں چاہتے۔ لیکن افسوس! کہ ماں باپ اس دنیا کے فیصلوں کے اندر برا نہیں چاہتے۔ آخرت کے لیے چاہے برا ہو جائے۔ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
مختلف جگہوں سے گزر ہوا۔ ہماری ایک ٹیچر تھیں۔ جن کا بیٹا چھوٹا تھا۔ ابھی چلتا بھی نہ تھا جھولا جھولتا تھا۔ تو جب وہ پڑھانے آتیں تو بچے کو فون پہ سونگ لگا کر دے آتیں اور بچہ چپ رہتا۔ نہ روتا اور نہ ہی ستاتا، ایک دن پوچھنے پہ انہوں نے کیا:
 کہ جب سونگ لگا کر دوں پھر اسے کوئی فکر نہیں ہوتی بس پھر چپ رہتا ہے۔
اور جب مائیں بچپن میں اپنی اولاد سے پوچھتی ہیں۔ میرا بیٹا بڑے ہو کر کیا بنے گا تو ان کے ذہنوں میں دنیا کے عہدوں کی ہی آوازیں گونج رہی ہوتیں ہیں۔ جن کی کوئی ممانت نہیں، لیکن دین کی سیڑھی پہ قدم رکھے بغیر جب وہ خواہش کو اپناتے ہیں تو اس خواہش کی پرستش کرتے ہیں۔ اور اس خواب کو اللّٰہ کے لیے خالص نہیں کر پاتے۔ اس طرح دنیا کے فائدوں کے لیے کوشش کرتے رہتے ہیں۔ یوں ان کی یہ خواہش بھی برباد ہو جاتی ہے۔ اور غلط سمت میں  چلی جاتی ہےاپنے بچوں سے ضرور پوچھیں کہ کیا بننا چاہتے ہیں  لیکن! ساتھ یہ بھی سوال کریں کہ کیوں بننا چاہتے ہیں؟ پھر ان کی سرزنش کریں۔ کہ اس دنیا میں ہر کام اللّٰہ کے لیے کرنا ہے۔ ہر قدم پر خواب اللّٰہ کے لیے رکھنا ہے۔ ہمارا حصہ پھر جنت میں ہو گا۔ لیکن اس دنیا میں مشقت اللّٰہ کے لیے کرنی ہے۔ اپنے کسی مقصد یا غرض کے لیے ہمیں خواب اور خواہشیں نہیں پانی۔ بچپن میں جب اپنے بچے کو یہ بات بتا دیں گے۔ تو وہ جانتا ہو گا کہ ہر قدم اللّٰہ کے لیے بڑھانا ہے۔ کیونکہ ہم آئے ہی اللّٰہ کے لیے ہیں۔لیکن آج کی مائیں ایسا نہیں کرتی ہیں۔
اس سے پہلے ایک بات بہت ہی اہم ہے۔ کہ بچے کے لیے دنیاوی  خواب دیکھنے سے پہلے انہیں  دین کی تعلیم دیں۔ دین پاس ہو گا۔ تو دنیاوی خواب دین کے مطابق ڈھل جائیں گے۔ آج کل دنیاوی علوم پہلے سکھائے جاتے ہیں۔ بچوں کی ہڈیاں ان کا خون سوکھ جاتا ہے۔ ٹیڑھی، میڑھی زبانیں سیکھتے ہیں۔اور انہیں پھر سمجھ بھی آ جاتی ہیں۔ اور وہ سیکھ بھی لیتا ہے۔ نہیں سمجھ ہوتی، تو فقط دین کی زبان اور اس علم کی سمجھ نہیں ہوتی۔ہم اسے بعد کے لیے رکھ دیتے ہیں۔ بس ناظرہ پڑھایا۔اور فرض پورا کر دیا جاتا ہے۔ لیکن عربی انہیں مشکل لگتی ہے۔ قرآن سیکھنا انہیں مشکل لگتا ہے۔ 
آخر کیوں؟ 
کیونکہ ان کو اس چیز کی طرف نہ رغبت دلائی گئی ہوتی ہے۔ نہ اس سے محبت سکھائی ہوتی ہے۔ نہ اس کی اہمیت کا اندازہ بتایا ہوتا ہے۔
ان کو پتہ ہوتا ہے تو فقط اتنا: 
کہ یہ دنیاوی علوم سے بہت فائدہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ بعد کی زندگی پہ نظر ثانی جو نہیں کروائی ہوتی۔ اسی دنیا پہ اکتفا کرنا اس بچے کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔ اور اس میں قصور والدین کا اور خاص طور پہ ماں کا ہوتا ہے۔ کہ بچے کو بچپن میں کیا سکھا دیا گیا۔ 
اس بات کو ذہن کی وسعتوں میں بٹھا لیں۔
کہ سات سال تک پیار محبت بچے کا حق ہے ہم تین سال کے بچے پہ بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ وہ بھی دنیاوی علوم کا ، چلیں خیر!
 آج کل کے بچے بہت ذہین بھی تو ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جلد تعلیم کے لیے نکل پڑھیں۔ لیکن اس کے پیچھے بھی نظریہ ماں باپ کا یہی ہوتا ہے۔ کہ بچہ جلدی جلدی پڑھ کر بڑا مقام پا لے کمانے کے قابل ہو جائے۔ اور خود بھی ان کی عیش وعشرت کے لیے دن رات ماں باپ مارے مارتے پھرتے ہیں۔ اور یوں انہیں اسی دنیا کی ترغیب دلاتے ہیں۔ نہ خود سکون میں ہوتے ہیں۔ نہ ہی اولاد کے لیے سکون کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ بچے کو پہلے دین کی مکمل تعلیم دلائیں۔ چاہے سات سال لگیں یا دس یا پندرہ پہلے دین کا علم دیں۔ صرف ناظرے سے فرض پورا نہیں ہوتا۔ اور دنیاوی علوم کمائی کے لیے سکھائے جاتے ہیں۔ تو محنت کر کے مزدور بن کر کمانا غلط نہیں ہے۔ کسی نبی نے بھی مستقل گھر نہیں بنایا۔ اس دنیا کے لیے خود کو ہلکان نہیں کیا کیونکہ یہ دنیا پلک جھپکتے گزر جانے والی ہے۔ آج کے والدین ساری عمر کمانے بچوں کے لیے اچھا انتظام کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ اور جب فرصت پاتے ہیں۔ تو موت آ جاتی ہے۔ یوں نہ اس دنیا کے رہتے ہیں۔ نہ اس دنیا کے لیے کچھ کما پاتے ہیں ۔
اے ماؤں! 
اپنی سوچ بدل ڈالو۔ اپنے بچوں کو دین کی رغبت دو۔ ان کا پور پور دین میں اللّٰہ کی محبت میں بسانے کی کوشش کرو۔ پھر اس کے بعد چاہے تو دنیاوی علوم میں لگا دو۔ اور یقین کرو دینی علوم سیکھ کر دنیاوی علوم چٹکیوں میں حاصل ہوتا جائے گا۔ اپنی اولاد کی دنیا نہیں آخرت کی فکر کرو۔
ذرا نظر اس ماں کی طرف دوڑائیں: 
حضرت بی بی ہاجرہ حضرت ابرہیم علیہ السلام  ان کا ماحول کیسا تھا۔ نہ کوئی ٹھکانہ نہ گھر نہ کوئی ہمسایہ نہ کوئی عیش وعشرت تھی۔ تو حضرت اسماعیل علیہ السلام میں دنیا سے محبت اللّٰہ کے حکم سے جنم کیسے لے سکتی تھی۔ جب چھوٹے تھے تو حضرت ابرہیم علیہ السلام نے بی بی حاجرہ کو ننھے اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ جب تپتی ریت میں تن تنہا چھوڑا تھا۔ تو تب بچے نے ماں کی اپنے شوہر کے لیے فرمانبرداری دیکھی تھی۔ کہ حضرت بی بی حاجرہ نے دو بار سوال تو ضرور کیا کہ ہمیں یہاں کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ کیا اللّٰہ پاک نے حکم دیا ہے؟ لیکن پھر حضرت ابرہیم کی خاموشی پہ نہ وہ خفا ہوئیں۔نہ ہی اپنے شوہر کے لیے بدگمان ہوئیں۔ کہ کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ بلکہ خاموش تھیں۔ کہ یقیناً اللّٰہ کی طرف سے حکم ہو گا۔ اور بچے میں بھی یہ خصوصیت آئی جب حضرت اسماعیل کو حضرت ابرہیم علیہ السلام نے خواب سنایا۔ کہ انہیں ذبح کرنے کا حکم  ہوا ہے۔ تو ان کی زبان پہ کوئی سوال نہ تھا۔ نہ کوئی تکرار نہ کوئی بحث،بس تیار تھے۔ کہ یقیناً اللّٰہ کی طرف سے ہی حکم ہے۔ یہ عادت یہ صفت ان میں ان کی ماں کی طرف سے ہی آئی تھی۔ اور آج کی مائیں اپنے شوہروں سے اتنی بدگمانیاں پالتی ہیں۔ تکرار بحث کرتی ہیں۔ اور وہی خصوصیات بچے میں منتقل ہوتی ہیں۔یہ اثر ہے ماحول کا، آج بچہ جس ماحول میں آنکھ کھولتا ہے۔ وہ چاروں طرف سے اس دنیا کے ساز وسامان سے گِھرا ہوتا ہے۔ کہ بس اس میں پروان چڑھتے چڑھتے بچے کو علم ہو جاتا ہے۔ کہ یہی دنیا ہے یہی زندگی ہے۔ اسی کے لیے جیتے جانا ہے۔
"تو آج کی مائیں کیا کریں؟"
*آج کی مائیں اپنے شوہروں سے بدگمان نہ ہوں۔ ان پہ شک نہ کریں۔ ان کے بارے میں برا خیال نہ رکھیں۔ 
*آج کی مائیں اپنے بچے کو پیدائش کے وقت وہ ماحول دیں  جو حقیقت پہ مبنی ہے۔ جو اس جہاں کے فانی ہو جانے کی حقیقت کو آشنا کرتا ہے۔ اس کے لیے ماں کو سب سے پہلے اپنے اندر سے مادیت پرستی کی چاہ نکالنی ہو گی۔
*آج کے والدین بچوں کو اچھی زندگی اور آسائشیں دینے کے لیے مارے مارے نہ پھریں۔ بلکہ آسانی میں رہ کر ان کو سادگی کی ترغیب دیں۔ سادہ رہیں۔ اور مل کر دین کے لیے کوشش لریں۔
* اپنے بچے کے لیے جنت کا خواب دیکھیں۔ اپنی اولاد کو دین کے راستوں پہ نکالنے کا خواب دیکھیں۔ اللّٰہ کی قسم! دنیا خود مل جائے گی۔ جبکہ دنیا میں کھو کر جنت اور دین نہیں ملے گا۔
*اپنے ارگرد سے برتاؤ اچھا رکھیں تا کہ بچے سیکھ سکیں۔
* اپنے بچوں کو عملاً وہ کام کر کے دکھائیں۔ جو ان کو کہ رہی ہیں۔ کہ وہ یہ کام کریں۔
* دین کے کاموں میں ان کی ہمت بنیں۔ کیونکہ شروع میں مشکل ہوتی ہے۔ اور شیطان یہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ کوئی بچہ پیدا ہوتے ہی اسلام کا پیروکار بن جائے۔ اس لیے اپنی دعاؤں سے اللّٰہ کی رحمت کا حصار اپنے بچے کی طرف کرتی رہیں۔
*جب بچپن میں بچے میں اللّٰہ کی محبت بس گئی تو یقین کریں وہ کبھی نہیں گر سکتا۔ دنیا خودبخود اسے مل جائے گی۔ لیکن پہلے دنیا میں لگا کر بچے کو برباد مت کریں۔ جاگ جائیں آپ کل کو اپنے بچوں کے لیےجوابدہ ہوں گی۔ یہی بچے روز محشر پھر آپ سے سوال کریں گے۔ کہ ہمیں دین کیوں نہیں سکھایا۔
 رک جائیں، ٹھر جائیں، سنبھل جائیں، اپنے مقصد تخلیق کو پہچانیں۔ عورت کی تخلیق کے مقاصد نسل کی بڑھوتی، مرد کا سکون، اور اولاد کی تربیت ہے۔ اسے سمجھ لیں اور اپنے بچوں سمیت خود کو تباہی سے بچا لیں۔