Ads

آج دنیا کی بہترین ایمرجنسی سروس ریسکیو کی 17 ویں سالگرہ ہے۔

سترھویں سالگرہ پر ریسکیو 1122 کا مکمل تعارف و کارکردگی رپورٹ
آج ریسکیو کی 17 ویں سالگرہ ہے
 

صوبائی دارالحکومت لاہور میں 2004کو ایسی سروس کی بنیاد رکھی گئی جس کے متعلق یہ کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ آنے والے دس سالوں میں یہ ایمرجنسی سروس دنیا کی بہترین سروسز میں سے ایک ثابت ہوگی اور یہ خواب حقیقت کا روپ اس انداز میں دھارے گا کہ لاکھوں لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہوں گے۔
 جی ہاں لاہور سے شروع ہونے والے جدید ایمرجنسی ایمبولینس سروس جس کا آغاز صرف 14ایمبولینس اور 200ریسکیورزسے کیا گیا تھا اب پنجاب کے طول عرض میں اپنے جامع ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم کے تحت 99لاکھ لوگوں کو بلاامتیاز رنگ ونسل و مذہب صرف ایک کال 1122پہ ریسکیو سروس فراہم کر چکی ہے اور یہ سروس اب دُنیا کی بہترین ایمرجنسی سروسز میں سے ایک ہے۔
 پاکستان کے دل لاہور سے شروع ہونے والی سروس کا دائرہ کار اب پنجاب بھر کے دوردراز دیہاتوں تک پھیل چکا ہے اور پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ لاکھوں دکھی دلوں کا مداوا بن چکی ہے۔یہی نہیں بلکہ خیبر پختونخوہ،گلگت بلتستان، آزادکشمیراوربلوچستان کے ایمرجنسی ورکر کو ایمرجنسی سروسز اکیڈمی سے تربیت فراہم کی گئی اور دوسرے صوبوں کے لوگوں کو بھی احساس تحفظ فراہم کیا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گنجان آباد علاقوں کی تنگ سڑکوں پہ فوری ایمرجنسی سروس کی فراہمی ایمبولینس اور بڑی گاڑیوں کے ذریعے  چیلنج بنتا گیا اور اس مسئلے کے حل کیلئے ترقی یافتہ ملکوں کی طرزپر موٹربائیک ریسکیو سروس شروع کرنے کا سوچا گیا اور بہت جلد اس خواب کو بھی حقیقت کا روپ دے دیا گیا۔موٹربائیک ریسکیوسروس کے ماسٹرٹرینرز کو برادر ملک ترکی سے تربیت دلوائی گئی اور پاکستان میں سال 2017میں 900موٹربائیک سے 9ڈویژنل ہیڈکواٹرز میں موٹربائیک ریسکیوسروس کا آغاز کردیاگیا۔جو ابتک 4منٹ کے اوسط رسپانس ٹائم کے ساتھ8لاکھ سے زائد ایمرجنسیز کو رسپانڈ کر چکی ہے۔
 ایمبولینس سروس کی کامیابی کے بعد فائر ریسکیو سروس کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی کیونکہ چھوٹے چھوٹے واقعات لاپرواہی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے نا صرف سانحات میں بدل رہے تھے بلکہ قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ سالوں کی محنت سے بنائے گئے انسانی وسائل بھی اس لاپرواہی کی وجہ سے خاکستر ہوتے جا رہے تھے اور ان ناگزیر حالات میں جدید فائر ریسکیو سروس کا قیام ضروری ہوتا جارہا تھا آخرکار پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ نے سال2006میں تاریخی شہر لاہورسے ماڈرن فائرریسکیو سروس کی بنیاد رکھی جس کے لئے سٹریتھ کلائیڈ ریسکیو سروس گلاسکو سے ماسٹر ٹرینرز کو تربیت فراہم کی گئی جنہوں نے پاکستان میں ماڈرن فائرریسکیو سروس کی کامیابی میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا اور ابتک یہ فائرریسکیو سروس 1لاکھ 70ہزار سے زائد آتشزدگی کے واقعات پر رسپانڈ کرتے ہوئے پیشہ وارانہ فائرفائٹنگ کی بدولت 511ارب روپئے مالیت کے ممکنہ نقصانات کو بھی بچاچکی ہے۔
2010کے سیلا ب کی تباہ کاریوں میں ریسکیو 1122نے آگے بڑھ کر دکھی انسانیت کی خدمت کی اور پانی میں گھرے ہوے لوگوں کی نہ صرف اُمید بنے بلکہ اس مشکل وقت میں بنیادی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے 2لاکھ سے زائد لوگوں کوریسکیو سروسز فراہم کی۔
دوردراز کے دیہاتوں کے پرائمری ہسپتالوں میں منتقل کئے جانے والے مریض جن کا علاج وہاں ممکن نہیں ہوتا تھا ان مریضوں کو سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ہسپتالوں میں فوری منتقل کرنا ناصرف وقت کی ضرورت تھی بلکہ پریشان حال مریضوں کے دکھوں کا مداوا بھی تھا اس ضرورت کے پیش نظر پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ نے پیشنٹ ٹرانسفر سروس کا آغاز کیا جس سے لوگوں کو بروقت سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ہسپتالوں میں منتقل کرکے ان کے فوری علاج کو یقینی بنایا گیا جس سے ابتک ساڑھے 9لاکھ سے زائد مریض استفادہ حاصل کرچکے ہیں۔
 سال 2005کے ہولناک زلزلہ کے بعد ملکی سطح پر ڈزاسٹرایمرجنسی رسپانس ٹیم کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی اس ضرورت کے پیش نظر اس وقت کے پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویزالٰہی نے پنجاب ایمرجنسی سروس کو سال 2006میں ہنگامی طور پر ڈزاسٹرایمرجنسی رسپانس ٹیم کے قیام کا ناصرف حکم دیا بلکہ ہرممکن مدد کا بھی یقین دلایا اور اسطرح پاکستان میں پہلی ڈزاسٹرایمرجنسی رسپانس ٹیم کا قیام عمل میں آیا اور بعد ازاں سالہا سال کی انتھک محنت اور جہد مسلسل کے نتیجے میں سال 2019ء کو ماہ اکتوبر میں ایمرجنسی سروس اکیڈمی کی پاکستان ریسکیو ٹیم نے اقوام متحدہ کے ادارے انسراگ سے جنوبی ایشیاء کی پہلی سرٹیفائڈ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بننے کا اعزا ز حاصل کیا جو کہ ہر پاکستانی کے لیے فخر کی بات ہے۔ 
 حالیہ کرونا لہر میں جب ایک خوف کا عالم تھا پنجاب ایمرجنسی سروس نے آگے بڑھ کے لوگوں کو اس مشکل وقت میں سہارا دیا جب اپنے اس وبا سے خوف ذدہ ہو کر اپنوں سے دور ہو رہے تھے تو ریسکیو1122کرونا کے مریضوں کو فوری ریسکیو سروسز کی فراہمی کیلئے میدان عمل میں تھی۔اس خوف اور کسمپرسی کے عالم میں ایکسپو ٹرائی ایج سنٹر اور مختلف ہسپتالوں میں کرونا کے19001مریضوں کوفوری منتقل کیا گیااور4210لوگوں کی کرونا پروٹوکول کے تحت انتہائی عزت و احترام سے تدفین کی گئی۔ 
 پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ،کمیونٹی سیفٹی پروگرام کے تحت ہر گھر میں ایک تربیت یافتہ فرد کیلئے پُرعزم ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی یا قدرتی آفت میں یہ تربیت یافتہ لوگ ایمرجنسی سروسز کا دست بازو بن سکیں۔کمیونٹی ٹریننگ پروگرام کے تحت یونین کونسل کی سطح پر کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ اور اب تک 14لاکھ سے زائدلوگوں کوفرسٹ ایڈ کی تربیت فراہم کی جاچکی ہے۔ اس پروگرام کے تحت 174944 ریسکیو سکاؤٹس ان لائن ریسکیو کیڈٹ کورپ ایپ کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ جوکہ محفوظ معاشرے کے قیام میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
 پنجاب ایمرجنسی سروس کا دائرہ کار مری کے پہاڑوں سے لیکر ملتان کے صحراؤں سے ہوتا ہوا کوہ سیلمان کی سنگلاخ چٹانوں اور پنجاب کے میدانوں میں زندگی کا پیغام دے رہا ہے۔ ریسکیو1122بلا امتیاز رنگ و نسل دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، زلزلہ ہو یا حادثہ، سانحہ ہو یا آگ ہر شخص کی امید کی کرن بن چکی ہے۔

فاروق احمد
ترجمان ریسکیو پنجاب
پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ
14 اکتوبر، 2021


یہ تحریر ریسکیو 1122 کے ترجمان کی طرف سے موصول ہوئی ہے۔ اس میں دئیے گئے اعداد و شمار و حقائق من و عن شائع کیے جا رہے ہیں۔ کیونکہ ادارہ کی یہ پالیسی ہے کہ سرکاری محکمانہ جات کے اعلامیہ و ہیڈ آؤٹ کو بغیر کسی ردوبدل کے شائع کیا جاتا ہے۔