Ads

مختلف حیلوں، بہانوں کے ذریعے دس ماہ سے ٹیچر سکول سے غائب۔ بچیاں سکول چھوڑنے لگیں۔ والدین سراپا احتجاج۔

 مختلف حیلوں، بہانوں کے ذریعے دس ماہ سے ٹیچر سکول سے غائب۔ بچیاں سکول چھوڑنے لگیں۔ والدین سراپا احتجاج۔

بہاولنگر ( ایجوکیشن رپورٹر) ٹیچر نا ہونے کی وجہ سے بچیاں بغیر پڑھے گھر واپس آ جاتی ہیں۔ فروری میں ٹیچر عظمیٰ لطیف نے اپنے اثرورسوخ کی بنیاد پر عارضی پابندی کروائی تب سے سکول واپس نہیں آئی ہیں ہے۔ والدین کی حکام بالا سے ٹیچر فراہم کرنے کی اپیل۔ تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول خیر شاہ تحصیل منچن آباد کی ٹیچر عظمیٰ لطیف نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے فروری 2021 میں اپنے گھر کے قریب عارضی پابندی کے آرڈرز کروا لیے تھے جبکہ سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف واضح ہدایات ہیں کہ کسی بھی ٹیچر کو عارضی پابند نا کیا جائے۔

 اگست میں ٹیچر عظمیٰ لطیف میٹرنٹی لیو پر چلی گئیں جو کہ 13 نومبر 2021 کو ختم ہو چکی ہے مگر ٹیچر موصوفہ سکول واپس نہیں آئی ہیں۔

 اس طرح فروری سے لیکر اب تک ٹیچر عظمیٰ لطیف سکول واپس نہیں آئی ہیں۔ بچیاں روزانہ سکول جاتی ہیں مگر ایک ٹیچر ساری بچیوں کو نہیں پڑھا سکتی اس لیے بچیاں بغیر پڑھے واپس آ جاتی ہیں۔ محکمہ تعلیم کے افسران سے بارہا بچیوں کی پڑھائی متاثر ہونے کی شکایت کر چکے ہیں مگر محکمہ نا تو ہمارے سکول کی ٹیچر کو واپس بھیج رہا ہے اور نا ہی کوئی نئی ٹیچر یہاں پر تعینات کر رہا ہے۔ ٹیچر کے نا ہونے کی وجہ سے ہماری بچیاں تعلیم سے محروم ہو رہی ہیں۔ بہت سے والدین نے سکول میں ٹیچر نا ہونے کی وجہ سے اپنی بچیوں کو سکول سے ہٹا لیا ہے۔ اہل علاقہ نے وزیراعلی پنجاب، وزیر تعلیم پنجاب، سیکرٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متعلقہ ٹیچر کو سکول میں واپس بھیجا جائے۔