Ads

رحلت کے وقت حضرت محمد ﷺ کے معاشی حالات



  تحریر : پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری,


1قسط نمبر 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شنبہ کے روز بارہ ربیع الاول سنہ گیارہ ھجری کو زوال کے بعد اس دنیا فانی سے دارالبقاء کی طرف رحلت فرمائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ (63) برس تھی۔۔۔

یہ وہ زمانہ تھا جب صرف جزیرۃ العرب پر ہی بلکہ سطوت نبویہ (Prophetic Remote Control) اور قوت حاکمانہ (Administrative Influence) کے ذریعے اس پاس کی ریاستوں کے والیان اور ملکوں کے شاہان پر بھی آپ کا اثر تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تحائف بھی بھیجا کرتے تھے۔ ان شاہان میں مقوقس مصری، نجاشی حبشہ اور قیصر روم شامل تھے۔ حنین و تبوک کے غنائم بھی آ چکے تھے۔ بحرین سے آنے والی بے پناہ دولت کا ڈھیر بھی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں لگ چکا تھا۔ خیبر، فدک، وادی القری تیما اور مدینہ منورہ کے باغات کی آمدنی بھی ہر فصل کے بعد مدینہ منورہ پہنچ رہی تھی۔ مختلف والیان ریاست اور ملوک دول کے بیش قیمت تحائف بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہورہے تھے۔ مخیریق  کے سات ثمر بار باغات کی آمدن بھی مسلسل تھی۔ مخیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اکرام و نیاز بھی اپنے جوبن تھا۔ غالبا انہی ذرائع آمدن سے دھوکہ کھاکر مستشرقین یورپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دنیوی بادشاہ کے روپ میں تصور کرکے وہ تمام نقائص (نعوذ باللہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی میں فرض کر لئے جو قدیم یورپ کے بادشاہوں میں ہوا کرتے تھے۔ ناکارہ مصنف کے قلم میں اتنی جرات ہرگز نہیں کہ ان کی ہرزہ سرائیوں میں سے کسی ایک کو بھی یہاں نقل کرے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر محرم راز کون تھا۔ وہ فرماتی ہیں: 

” رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت اس حالت میں فرمائی کہ میرے گھر میں کوئی ایسی شے نہ تھی جسے کوئی جانور کھا لیتا، صرف ذرا سا جو کا دلیہ میری الماری پر رکھا تھا میں نے اس میں سے کچھ پکا کر کھایا، وہ بہت دن چلا، حتی کہ میں نے ایک دن اسکی ناپ تول کی، بس اسی دن کے بعد وہ ختم ہوگیا۔“

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: 

”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں رحلت فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی مالدار کے پاس تیس صاع جو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے دے کر آپ زرہ واگزار کرا لیتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیا کو الوداع فرمایا۔“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کپڑوں میں رحلت فرمائی ان میں اوپر تلے پیوند لگے ہوئے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: 

” حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک میلی بوسیدہ چادر اور ازار بند نکال کر دکھائے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی۔“

اور جب اس عالم رنگ و بو کو الوداع فرمایا تو کوئی دینار یا درہم، کوئی لونڈی یا کوئی غلام اور کوئی چیز بھی اپنے پیچھے نہیں چھوڑی۔ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سواری کا جانور تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہتھیار تھے اور زمین تھی، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے لئے صدقہ کردیا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔