Ads

محکمہ تعلیم اور ناقص شاہی فرمان:

 محکمہ تعلیم اور ناقص شاہی فرمان


محکمہ تعلیم اور ناقص شاہی فرمان

تحریر: راؤ جی (ملتان)


ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستانی عدالتوں میں 21,59655 کیس زیرِ التوا ہیں۔ جن میں بیشتر کیسز ایسے مظلوموں کے ہیں جو اپنا خون بیچ کر عدالتی اخراجات پورے کرتے ہیں اور انصاف کی جستجو میں در بدر اپنے شب و روز برباد کر رہے ہیں۔ اِس ظلم کے ذمہ داران ججز کی کمی کا موقف پیش کرتے ہیں وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ ججوں کی پبلک ریٹنگ کے چکر میں غیرمتعلقہ معاملات میں دلچسپی انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر پیدا کرتی ہے۔ ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ محترم ججز صاحبان سال کے تین مہینے چھٹیوں پر گزارتے ہیں۔ یہ تعطیل برطانوی راج کی ایک نوآبادیاتی روایت ہے جبکہ موجودہ دور کی آسانیوں کے باعث اس نوآبادیاتی روایت کو ختم کرنا بے حد ضروری ہے۔ برطانوی راج میں ججوں کو گرمی کے مہینوں کی چھٹی اس لیے دی جاتی تھی کہ انہیں انگلستان سال میں ایک مرتبہ جانے کی اجازت ہوتی تھی اور سفر میں دس سے پندرہ دن لگ جاتے تھے اور ہمارا عدالتی نظام آج بھی انگریزوں کے نئی آبادی کی روایت کے مزے لے رہا ہے اور ہمارے یہ محترم ججز صاحبان انصاف کے متلاشی اِن مظلوموں کو اضافی وقت دینا خلافِ معمول سمجھتے ہیں۔۔ جبکہ آج اِن کے پاس وقت کی ایسی فراوانی ہے کہ یہ محکمہ تعلیم کی ذمہ داریاں بھی پوری کرنے فیلڈ میں اتر چکے ہیں۔ ایک شاہی فرمان کے مطابق اساتذہ اُن کے انتظار میں شام چار بجے تک بیٹھیں گے گویا یہ محترم ججز کیلئے اُن کے دورے کا پروٹوکول ہے جس کا پابند اُن اساتذہ کو کیا جا رہا ہے جنہوں نے اِن ججز کو بنایا ہے ایسا حکم نامہ جاری کرنے والے زمینی حقیقتوں کا ادراک کرنے کی زحمت بالکل بھی گوارا نہیں کرتے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔۔؟ کہ ایک پرنسپل جو فی میل ہے وہ سب بچوں اور ٹیچرز کو ڈھائی بجے گھر بھیج کر قرآن کی تعلیم پر مامور قاری صاحب کے ساتھ اکیلے چار بجے تک بیٹھے۔۔۔؟ یا ایک میل پرنسپل کیسے فی میل عربی ٹیچر کے ساتھ چار بجے تک اِن ججز کا انتظار کرے۔۔۔؟ بالخصوص پنجاب کے ایسے اکثریتی دور دراز  علاقے جہاں شہروں سے خواتین اساتذہ مشترکہ سواری پر گاؤں کے سکولوں میں پہنچتی ہیں، اور ڈھائی بجے تمام ٹیچرز چلی جائیں اور کسی ایک ٹیچر کو اُن محترم ججز صاحبان کیلئے رکنا پڑے۔۔۔؟ وہیں قرآن پاک کے کلاس وائز سلیبس کی بات کریں تو ایک چہارم کا بچہ جس کو ابھی نورانی قاعدے کی ضرورت ہے اُس کو فوری طور پر نواں سپارہ کیسے پڑھایا جائے۔۔؟ کیا یہ فیصلہ ساز یہ چاہتے ہیں کہ قرآن پاک جیسی افضل کتاب کی پڑھائی کی رپورٹ بھی محض خانہ پری تک محدود رہے یقیناً اساتذہ قرآن پاک کی تعلیم میں جھوٹی رپورٹ پیش نہیں کر سکتے کہ بچے سلیبس کے مطابق پڑھ رہے ہیں اور اساتذہ کے ساتھ ایسی نا معقول زبردستی بہت جلد بڑے احتجاج کی صورت میں سامنے آئے گی۔۔۔ یقیناً قرآن پاک کی سکولوں میں تعلیم ایک عظیم فیصلہ ہے لیکن ایسی ڈکٹیٹرشپ سے یہ تعلیمی پراسس خدانخواستہ ناکامی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اِس عظیم فیصلے کو قابلِ عمل بنانے کیلئے زمینی حقیقتوں سے آشنائی ازحد ضروری ہے۔ بہتر ہو گا اِس دینی فروغ تعلیم کی ترسیل کے عمل کو محکمہ تعلیم کے لوگ ہی مانیٹر کریں جو کہ تعلیمی عمل کی باریکیوں سے واقف ہیں اور محترم ججز صاحبان انصاف کی فراہمی کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کریں وہ انصاف جس کی اِس معاشرے میں شدید ترین کمی ہے۔ کیونکہ تعلیمی پیچیدگیوں سے نابلد ایسے غیر متعلقہ لوگ محکمہ تعلیم میں شدید بگاڑ کا باعث بنیں گے۔