Ads

ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کے تبادلے کے ساتھ ہی قبضہ مافیا سرگرم

اسسٹنٹ کمشنر کی مل بھگت سے واگزار کروائی گئی سرکاری اراضی پر قابضین نے 5 ایکڑ  کپاس کی چنائی کر لی


اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر سرکاری زمین کا قبضہ واگزار کرواتے وقت موقع پر موجود ہیں۔

بہاولنگر ( سیف الرحمن سے) واگزار کروائی گئی سرکاری اراضی پر قابضین نے 5 ایکڑ  کپاس کی چنائی کر لی۔  ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کے تبادلے کے ساتھ ہی قبضہ مافیا دوبارہ ایکٹو۔ اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر کی اجازت سے چنائی کروائی ہے اور  رقم  اسسٹنٹ کمشنر صاحب کو دے دی ہےقابضین کا مؤقف۔ 

تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر نے گزشتہ دنوں بہاولنگر کے نواحی علاقے موضع کوٹ شیر محمد میں عرصہ دراز سے سرکاری زمین پر قابض قبضہ مافیا سے 5 ایکڑ سرکاری زمین واگزار کروائی تھی

قبضہ واگزار کرواتے وقت موقع پر موجود سرکاری مشینری


  زمین واگزار کروا کر نمبردار کی سپرد داری میں دے دی تھی۔ اور تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا کہ قابضین سے تاوان وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے۔




مگر قبضہ مافیا نے قبضہ دینے کی بجائے 5 ایکڑ سرکاری اراضی پر کھڑی کپاس کی فصل کی چنائی کروا لی ہے

۔قابضین کی جانب سے چنائی کروانے کی تحریری اطلاع بروقت اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر کو دی گئی جنہوں نے علاقہ گرداور محمد حسین وٹو کو موقع پر چنائی رکوانے کے لیے بھیجا مگر چنوائی رکوائی نا گئی۔ گرداور نے تحریری رپورٹ برائے قانونی کارروائی برخلاف قبضہ جمع کروا دی جس پر نائب تحصیلدار نے بھی کاروائی کی سفارش کی ہے۔ 


رداور اور نائب تحصیلدار کی موقع ملاحظہ کے بعد رپورٹ

قبضہ مافیا نے 5 ایکڑ کپاس کی چنائی مکمل کر لی۔ جب قابضین سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے AC صاحب کی اجازت سے چنائی کروائی ہے اور کپاس بیچ کر پیسے AC صاحب بہاولنگر کو دے دئیے ہیں۔ محکمہ مال کے افسران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ سرکاری خزانے میں کپاس کی رقم جمع نہیں ہوئی ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر بہاولنگر سید عثمان سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کال اٹینڈ نہیں کی اور ناہی واٹس ایپ میسج کا جواب دیا۔  سرکاری اراضی کا قبضہ واگزار کروانے کی تشہیر کرنے کے بعد قابضین کی جانب سے کپاس کی چنائی ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

عوامی سماجی و سیاسی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر بہاولپور اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے