Ads

 


نعت رسول مقبولﷺ


وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں


اکِ روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں


رحمت کی گھٹائیں پھیل گئیں افلاک کے گنبد گنبد پر


وحدت کی تجلی کوند گئی آفاق کے سینا زاروں میں


گرارض وسما کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو


یہ رنگ نہ ہوں گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں


وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے


ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں


جو فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ وروں سے حل نہ ہوا


وہ رازاک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں


مولانا ظفر علی خان