Ads

حضرت خالد بن ولید ؓ

 تاریخ اسلام کے عظیم کمانڈر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ



اللّہ کی تلوار 

  صرف عالم اسلام ہی نہیں پوری انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے  حضرت  خالد بن ولید ؓ جیسی جنگی حکمت عملی کا کوئی ثانی نہیں۔ اللّہ کی تلوار سیف اللہ کا لقب آپﷺ کی طرف سے ملا۔ جسم کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں جنگوں میں شرکت کی وجہ سے زخم نہ لگے ہوں۔ 

تعارف 

حضرت خالد بن ولید قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے اور پیدائشی جنگجو تھے۔ انکے والد کا نام عبیداللہ ولید تھا اور انہوں نے بچپن سے ہی حضرت خالد بن ولیدؓ کو جنگی حکمت عملی اور فن حرب سکھا دیے تھے۔ آپ نے تین سے سو زاید جنگوں میں,حصہ لیا اور نا قابل شکست رہے۔ کون جانتا تھا کہ غزوہ احد میں کفار کا کمانڈر ایک دن مسلمانوں کا سپہ سالار بنے گے اور سیف اللہ کا لقب پاۓ گا۔ 

ایک دفعہ حج کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے بال کٹوائے تو خالد بن ولید ؓ نے وہ بال اٹھا لئے ،نبی کریمﷺ نے وجہ پوچھی تو خالد بن ولید ؓ نے جواب دیا ’یا رسول اللہ ﷺ یہ آپ کے بال مبارک میرے پاس رہیں گے ،ان کی برکت سے انشا ءاللہ میں ہر جنگ میں فتح پاﺅں گا ‘۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ،بے شک ان بالوں اور میری دعا کی برکات سے تمہیں ہر جنگ میں فتح نصیب ہو گی“

خالد بن ولیدؓ ایک ذہین اور نڈر جنگجو تھے انہوں نے تین سال کے مختصر عرصہ میں شام اور ایران کے پرخچے اڑا دئے۔

جب سیدنا خالد ؓ کی تعریف حضور کے سامنے کی جاتی تو آپ فرماتے کہ یہ خصوصیات جس شخص میں ہوں گی وہ اسلام قبول کر لے گا‘۔خالد بن ولید ؓ جن صلاحیتوں کے مالک تھے ،نبی کریم ﷺ آپ کے قبول اسلام کے لئے دعا فرمایا کرتے تھے۔یہ کیسے ممکن تھا حضور ﷺ کسی کے حق میں دعا فرمائیں اور اسے شرف قبولیت نہ بخشا جائے۔ غزوہ احدکے بعد خالد بن ولید ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور اسلام قبول کرلیا۔ خالد بن ولید ؓ کے حوالے سے جنگ یرموک تاریخ میں معرکہ آرا جنگ کے نام سے یاد کی رکھی جاتی ہے۔ اگر جنگ یرموک میں صلیبی فوج کامیاب ہو جاتی تو ان کا اگلا ہدف مدینہ کی ریاست تھا۔

وفات

حضرت خالد بن ولید ؓ نے شام فتح کیا اور حمص کو اپنا مستقل مسکن بنالیا اور اسی شہر میں آپ نے اکیسویں ہجری میں انتقال  فرمایا۔حضرت خالد بن ولیدؓ جنہیں ابو سلیمان بھی کہا جاتا تھاکی وفات کی خبر جب شام سے مدینہ پہنچتی ہے تو مدینہ میں کہرام مچ گیا ،امیر المومنین  حضرت عمر ؓ نے  جب یہ خبر سنی تو آپ آبدیدہ ہو گئے اور اہل مدینہ سے فرمایا کہ اس خبر پر جو آنکھ رونا چاہتی ہے آج رو لے کہ خالد بن ولیدؓ جیسے لوگوں پر رونے کا موقع نہیں ملے گا۔

حضرت خالد بن ولید ؓ اپنے  آخری ایام میں فرماتے ہیں ”میں ایک اونٹ کی طرح ایک بستر پر جان دے رہاہوں،اس پر مجھے سخت شرمندگی ہے کہ میں میدان جنگ میں شہید نہیں ہو سکا “

اللہ تعالی حضرت خالد بن ولید پر کروڑوں رحمتیں نازل فرماۓ۔