Ads

جان نثار اختر

 

غزل


آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں

شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا

جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر

ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم

ہو